اردو اکادمی پرنامبٹ
عظیم زبان اردو کو واقف کرانے کی کوشش To make familiar the great language of URDU
Wednesday, January 20, 2016
Tuesday, September 16, 2014
Thursday, June 19, 2014
Introduction and Development of URDU in DECCAN
دکن میں اردو کا آغاز و ارتقا
دکن میں اردو کا
آغاز و ارتقا اردو دہلی اور اس کے نواح کے علاقے میں پیدا ہوئی اور علاء الدین
خلجی، ملک کافور اور محمد تغلق کے حملوں کی وجہ سے دکن پہونچی۔ جہاں اس کو مختلف
نام دیے گئے، مثلاً ، ہندی، ہندوی، گوجری، گجری، ، دکنی، مسلمانی، ترکاماٹا، زبان
اہل ہند، زبان دہلی، زبان ہندوستان وغیرہ۔ دکنی اسی اردو کاوہ قدیم روپ ہے جو
تیرہویں صدی عیسوی سے سترہویں صدی عیسوی تک دکن اور گجرات میں پروان چڑھتا رہا۔ ۱۷۰۰ء میںجب دہلی
میں ’’ریختہ‘‘ کے نام سے اردو شاعری کااحیا ہوا تو دہلی کی زبان دکنی سے بہ اعتبار
صوتیات و صرف و نحو وغیرہ کسی قدر مختلف ہو گئی اور معیاری اردو کہلائی اور اس کی
وہ شکل جو دکن میں تھی اسے دکنی کہا جانے لگا ۔ دکن کے اولین مراکز گجرات اور دولت
آباد تھے ۔ چنانچہ دکنی زبان ’’گوجری‘‘ اور ’’گجری‘‘ بھی کہلائی۔ ڈاکٹر چڑجی گجری
کی وجہ تسمیہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں: دکنی کا نام گجری، اس کی اصلیت اور مشاہبت کا آئینہ
دار ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پنجاب کے گوجر جنہوںنے پنجاب کے شہروں کو گجرات اور
گوجر انوالہ کا نام دیا شمالی ہند کی فوجوں کے ساتھ ہجرت کرکے دکن گئے تو انہوںنے
اپنے نام اور بولی کو کچھ دن کیلئے زندہ رکھا۔ شوکت سبزواری کے خیال میں:۔ ’’دکنی
، گجری، گجراتی دراصل وہی زبان ہے جو دلی سے ان علاقوں میں پہونچی البتہ ان میں
مقامی الفاظ اور ترکیبیں شامل ہو گئیں‘‘ دکنی کا علاقہ دکنی اور گجراتی کے اس
اختلاط کی وجہ یہ ہے کہ ’’دکنی‘‘ کا لسانی خطہ جنوب کی مختلف ریاستوں یعنی
گجرات،مہاراشٹر، آندھرا،میسور، تامل ناڈو کے موجودہ علاقوں پر مشتمل تھا جہاں اردو
زبان کا یہ روپ دکنی کی شکل میں ترقی کرتا رہا۔ جو بہ اعتبار صوتیات صرف ونحو، لغت
و عروض معیاری اردو سے مختلف تھا۔ اس کی وجہ سے بعض علما دکنی کو اردو سے علیحدہ
زبان تسلیم کرنے لگے۔ ڈاکٹر محی الدین قادری زور، جنہوںنے ’’دکنی‘‘ کی بازیافت
میںنمایاں حصہ لیا اور محمود شیرانی ، جنہوںنے اردو کے آغاز کے بارے میں سب سے
پہلے قلم اٹھایا ’’دکنی اور پنجابی‘‘ کی جزوی مماثلتوں کی بنا پر دکنی کا ماخذ
پنجابی قرار دیتے ہیں۔ ڈاکٹر زور ہندوستانی صوتیات میںمعیاری اردو کوکھڑی بولی سے
مشتق اور ’’دکنی‘‘ کو ’’پنجابی‘‘ سے مشتق بتاتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر چٹر جی، ڈاکٹر ژول
بلاک اور ڈاکٹر مسعود حسین خاں کی تحقیقات کی رو سے:۔’’دکنی‘‘ ، معیاری اردو
کاقدیم روپ ہے جس کاہیولیٰ ، نواح دہلی کی بولیوں ،کھڑی، ہریانی اور میواتی سے
تیارہوا‘‘۔ دکن کا علاقہ ایک آریائی زبان مراٹھی سے بھی گھرا ہوا ہے اس لیے
’’دکنی‘‘ نے مراٹھی اور اس سے قبل مہاراشٹری پراکرت کا خاصا اثر قبول کیا۔ اس کے
علاوہ دراوڑی خاندان کی زبانوں، تامل، تلنگی، ملیالم، کنڑی سے گھری ہونے کی وجہ سے
تلنگی، کنڑی اور تامل کے بعض الفاظ بھی دکنی میںشامل ہو گئے۔ لیکن ان زبانوں کے
اثرات سے اردو قواعد محفوظ رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ (۱) دکنی بہ استثنائے چند الفاظ اور اختلافات
تلفظ ، سلاطین دہلی کے عہد کی اردوئے قدیم کے سوا اور کچھ نہیں۔ (۲) ’’دکنی‘‘ کی فرہنگ
اور خصوصیات صرف و نحو کی توجیہ نواح دہلی کی بولیوں ، بالخصوص ہریانی اور کھڑی سے
مکمل طور پر کی جا سکتی ہے۔ (۳) ’’دکنی‘‘ نہ تو برج بھاشا سے نکلی نہ پنجابی سے۔ اس کامولد و
منبع نواح دہلی کی بولیاں ہیں۔ دکنی ’’صوتی تغیر‘‘ کے زیر اثر معیاری اردو بنی ۔
’’دکنی‘‘ یااردوئے قدیم کی لسانیات کی مندرجہ ذیل خصوصیات ایسی ہیں جو بعد کے مرحلہ
میں نہیں ملتیں۔ مثلاً: صوتی خصوصیات مصوتوں کی سطح پر اردو ئے قدیم یا دکنی کی سب
سے بڑی خصوصیت تخفیف صوت ہے یعنی:۔ (۱) اسمان بجائے آسمان (۲) ہائے ہوز کی تخفیف جیسے یہاں کے بجائے یاں (۳)د کنی میں بعض
اوقات ’’ہ‘‘ زائد کردی جاتی ہے جیسے مٹی کے بجائے مٹھی۔ (۴) ’’ق‘‘ اور ’’کھ‘‘ کی جگہ ’’خ‘‘ کی آواز
جیسے ’’صندوخ‘‘ بجائے ’’صندوق‘‘ ’’راخ‘‘ بجائے ’’راکھ‘‘۔ (۵) ’’گ‘‘ کی جگہ ’’غ‘‘ کی آواز مثلاً ’’اغال
دان‘‘ بجائے ’’اگال دان‘‘۔ (۶) ’’دکنی کا‘‘ میلان تشدید حرف کی طرف ہے جیسے چونا کے بجائے
چننا۔پھیکا کے بجائے پھکّا۔ صرفی خصوصیات جمع بنانے کے لئے ’’اں‘‘ کا استعمال جیسے
’’کھیت‘‘ کی جمع ’’کھیتاں‘‘ ۔ صرفی سطح پر دکنی زبان کی ایک خاص کلید ’’چ‘‘ تاکید
کااستعمال ہے۔ چ تاکیدی کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ یہ مراٹھی سے مستعار لی گئی ہے۔
دکنی کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ دکنی لکھنے والوں نے عربی فارسی الفاظ کی بھی
’’تارید‘‘ کی نیز اپنا رشتہ کھڑی بولی اور شور سینی اپ بھرنش سے استوار رکھا۔ جس
کے توسط سے وہ سنسکرت کے بھی قریب رہی چنانچہ دکنی لفظیات پر سنسکرت کے ’’تت سم‘‘
الفاظ کا چلن رہا ’’تدبھو‘‘ الفاظ دکنی نے قبول کئے ۔ جیسے صنم کے بجائے ’’پیو‘‘
یا ’’پیا‘‘ محبت کیلئے پریم۔ دکنی کی ایک اور خصوصیت ہکار حروف کی تخفیف بھی ہے
جیسے سمدھی بجائے سمدی۔ باندھنا کے بجائے باندنا۔دکنی میں نیم مصوتے عام ہیں جیسے
پٹا۔ڈپا وغیرہ۔ دکنی میں جملوں کی ساخت میں فعل کو فاعل کے مطابق لایا جاتا ہے
مثال کے طور پر لڑکی لڈو کھائی۔لڑکیاں کاماں کرتیاں۔ دکنی نے اپنی ہمسایہ زبانوں
تلنگی، کنڑی سے بھی الفاظ مستعار لئے جیسے کنڑی کا ہچّا بہ معنی دیوانہ۔ تلنگی کے
الفاظ بونتا، دھپڑا، گھڑسی، راوٹی، بنڈی۔ واو عطف جو شمالی ہند کی اردو میں صرف
فارسی عربی الفاظ کے درمیان لایا جاتا ہے۔ دکنی میں ہند آریائی اور عربی فارسی
الفاظ کے درمیان بھی مروج ہے جیسے: گھر ودولت۔ دولت (فارسی) +گھر (ہندی) اس اختلاف
کی وجہ یہ تھی کہ دکن و گجرات کی اردو نے پنجابی کے علاوہ راجستھانی ، گجراتی ،
برج زبانوں کے اثرات بھی قبول کئے تھے۔ مثلاً ہمنا، تمنا، راجستھان زبانوں کے
ضمائر دکنی والوں نے اپنائے۔ اس وجہ سے ’’دکنی‘‘ اور ’’معیاری اردو‘‘ دو الگ الگ
دھارے بن گئے تیرہویں صدی سے سترہویں صدی تک دکنی ادب کے کئی اہم کارنامے منظر عام
پر آئے۔ دکنی میںتصنیف و تالیف کا سلسلہ ۱۸۶۷ئ تک برقرار رہا چنانچہ ۱۸۶۷ئ میں حیدرآباد کے ایک صوفی فقیر اللہ
شاہ حیدر نے نہال چند لاہوری کی تصنیف ’’بکاولی‘‘ کے مقابل میں اپنی تصنیف
’’تناولی‘‘ پیش کی۔ باقر آگاہ اپنی مثنوی ’’گلزار عشق‘‘ کے دیباچے میں جو ۱۷۹۶ئ میںلکھی گئی
’’دکنی‘‘پر کئے ہوئے اعتراضات کاجواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:۔ ’’مقصود اس تمہید سے
یہ ہے کہ اکثر جاہلان و ہرزہ سرایاں زبان دکنی پر اعتراض اور ’’گلشن عشق‘‘ و ’’علی
نامہ‘‘ کے پڑھنے سے احتراز کرتے ہیں اور جہل مرکب سے نہیں جانتے کہ جب تک ریاست
سلاطین دکن کی قائم تھی زبان ان کی درمیان ان کے خوب رائج تھی اور طعن شماتت سے
سالم تھی اکثر شعرا وہاں کے ابن نشاطی، فراقی، شوقی، خوشنود، غواصی ، ایاغی، ہاشمی
، شغلی، بحری، نصرتی، مہتاب وغیرہ ہم نے اپنی زبان میں بے حساب قصائد ، غزلیات،
مثنویات اور قطعات رقم کئے اور داد سخنوری کا دئے‘‘۔ دکنی کے ادوار دکنی کی ترقی
کا اندازہ لگانے کے لئے دکنی ادب کی تاریخ کو ان چار ادوار میں منقسم کیا جاتا ہے۔
پہلا دور:۔گجرات میں دکنی یا قدیم اردو کا چلن۔ دوسرا دور:۔ ۱۳۲۴ئ سے ۱۶۸۶ئ تک علاء الدین خلجی اور محمد بن تغلق
کے حملوں کے بعد بہمینہ سلطنت کے قیام اور بہمینہ سلطنت کے سقوط کے بعد گولکنڈہ ،
بیجا پور اور احمد نگر کے شمالی ہند میں انضمام تک۔ تیسرے دور:۔ اورنگ زیب کے عہد
میں دکنی کا اہم مرکز اورنگ آباد تھا۔ چوتھا دور:۔ دور آصفی۔ مرکز گجرات گجرات میں
اس زبان کی سرپرستی حضرت عین الدین گنج العلم، شاہ علی جیو گام دھنی، بہلاء الدین
باجن، شیخ خوب محمد چشتی، جیسے علما و صوفیا نے کی۔ شاہ علی جیوگام دھنی نے اپنی
یادگار ایک اردو دیوان ’’جواہر اسرار اللہ ‘‘ چھوڑا شیخ خوب محمد نے اپنے مرشد
بہاء الدین باجن کے کلام کی شرح ’’خوب ترنگ‘‘ کے نام سے لکھی۔ ما بعد کے زمانے میں
محمد امین گجراتی کی تصنیف ’’یوسف زلیخا‘‘ قدیم اردو کی اہم تصنیف ہے۔ سید علی
جیوگام دھنی کے کلام کو ان کے ایک شاگرد نے ترتیب دیا اس میں ان کی شاعری کے متعلق
لکھتا ہے۔ ’’دربیان توحید و اسرار باالفاظ گجری بطریق فرمودہ‘‘ یہ نام گجری اور
گوجری دکنی کے لیے اس دور میں خاصہ مقبول رہا۔ چنانچہ بیجاپور کے مشہور صوفی شاہ
برہان الدین جانم اپنی تصانیف ’’کلمۃالحقائق‘‘ اور ’’حجۃ البقائ‘‘ میں دکنی کو
گجری کے ہی نام سے یاد کرتے ہیں:۔ گجرات کے ساتھ دکنی کی سرپرستی دکن کی جن
سلطنتوں نے کی ان میں سلطنت بہمینہ اور اس کے انفراض کے بعد عادل شاہی ، قطب شاہی،
نظام شاہی، عماد شاہی، برید شاہی وغیرہ مشہور ہیں۔ بہمینی سلطنت کے زمانے میں دکنی
کی ترقی علاء الدین خلجی ملک کافور نے ۱۳۱۰ء تک دکن کا کچھ حصہ فتح کر لیا تھا ۱۳۲۴ء میں محمد تغلق نے دیو گڑھی دولت آباد
کو ہندوستان کا پایۂ تخت بنانا اور دہلی سے کثیر پیمانے پر آبادی کا انتقال عمل
میں آیا۔ اس طرح ’’دکنی‘‘ (قدیم اردو) خاص طور سے مہاراشٹر (دولت آباد) کے اطراف
کے علاقہ میں تیزی سے پھیلنے لگی۔ کیونکہ دکن میں مراٹھی، کنڑی، تلنگی اور تامل
زبانیں بولی جاتیں تھیں۔ اس لئے اردو یا دکنی ہی مشترک زبان کے طور پر حاکم و
محکوم کے مابین ارتباط کا ذریعہ بنی۔ دکنی کی اشاعت و ترویج دو محاذوں سے ہوئی
’’خانقاہ‘‘ اور ’’دربار‘‘ خانقاہوں میں صوفیا نے عقائد و مذہب کی تبلیغ کا ذریعہ
اس مشترک زبان کو بنایا جو دکن میں مقبولیت حاصل کر رہی تھی۔ اس لیے جب محمد بن
تغلق کے خلاف دکنی امرا نے علم بغاوت بلند کرکے علاء الدین حسن بہمینی کو اپنا
فرماں روا تسلیم کیا تو دربار میں بھی اس زبان کی سرپرستی کی گئی۔ بہمینی خاندان
کے حکمرانوں نے جہاں مقامی زبانوں کی سرپرستی کی وہیں عربی، فارسی، اردو (دکنی) کو
بھی فروغ دیا ۔ بہمینی دور کے اکثر فرماں روا علم دوست اور ادب پر ور تھے۔ احمد شاہ
بہمینی کے زمانے میں حضرت سید بندہ نواز گیسو دراز دن تشریف لائے آپ نے عربی فارسی
کی تصانیف کے علاوہ چند رسائل ’’دکنی‘‘ میں تصنیف فرمائے ، اور بعض رسائل کو غلط
طور پر آپ سے منسوب کر دیاگیا۔ بہر حال یہ امر مسلم ہے کہ اس زمانے تک دکنی زبان
میں اتنی سکت آ گئی تھی کہ وہ اظہار خیال کا ذریعہ بن سکے۔ خواجہ بندہ نواز کے
خلفاء اور تلامذہ میں بھی کئی نے اس زبان میں تصنیف و تالیف کا کام کیا۔ بہمینی
دور کے مشہور شعرا اور ادبا جن کے کارنامے منظر عام پر آ چکے ہیں مندرجہ ذیل ہیں: ۱۔ حضرت عین
الدین گنج العلم گجرات سے دکن تشریف لائے۔ ۲۔ سید محمد حسینی بندہ نواز گیسو دراز ۳۔ حضرت اکبر حسینی ۴۔ خصرت عبد اللہ
حسینی ۵۔نظامی۔ مصنف
کدم راو پدم رائو ۶۔ امیر الدین
شاہ میراں جی شمس العشاق ۷۔ فیروز مصنف پرت نامہ یا توصیف نامہ میراں محی الدین ۸۔ اشرف مصنف نوسرہار ان کے علاوہ احمد، محمود، آذری، خیالی
وغیرہ کے بھی نام ملتے ہیں۔ ۱۵۶۷ئ مطابق ۹۳۴ھ میں بہمینی حکومت کمزور ہو گئی اور اس کے پانچ صوبوں ،
یعنی بیجاپور، گولکنڈہ، احمد نگر، برار اور بیدر کے صوبہ داروں نے بغاوت کرکے اپنی
خود مختاری کا اعلان کر دیا۔ بیجا پور میں عادل شاہی ، گولکنڈہ میں قطب شاہی، احمد
نگر میں نظام شاہی، اور بیدر میں برید شاہی سلطنتوں کی بنیاد بڑی جس میںسے برید
شاہی اور عماد شاہی سلطنتیں کمزور ہونے کے باعث عادل شاہی نظام شاہی اور قطب شاہی
میں ضم ہو گئیں بیدر کی برید شاہی کو عادل شاہی سلطنت نے برار کی عمادشاہی کو احمد
نگر کی نظام شاہی حکومتوں نے ختم کر دیا۔ بقیہ تین سلطنتوں کے حکمرانوں یعنی عادل
شاہی ، قطب شاہی اور نظام شاہی سلطنتوں نے نہ صرف شعر و ادب کی سرپرستی کی بلکہ
خود بھی اس زبان کو ادبی اظہار کا وسیلہ بنایا۔ سلطنت قطب شاہی قطب شاہی خاندان کے
پانچویں فرماروا محمد قلی قطب شاہی جس نے پچاس ہزار کے قریب شعر کہے یہ اردو
کاپہلا صاحب دیوان شاعر تھا۔ اس خاندان کے دوسرے فرماں روائوں سلطان محمد، سلطان
عبد اللہ، اور ابوالحسن تاناشاہ نے بھی اس زبان میں شاعری کی۔ لیکن ظل اللہ کو زور
صاحب نے سلطان محمد قطب شاہ کا تخلصی بتایا ہے وجہی اس عہد کا مشہور شاعر اور نثر
نگار ہے جس نے نظم میں ’’قطب مشتری‘‘ لکھنے کے علاوہ نثر میں ’’سب رس‘‘ لکھ کر
دکنی نثر کو ادبی رنگ دیا۔ ابھی تک دکنی نثر صرف مذہبی اور فلسفیانہ موضوعات کے
لئے استعمال کی جاتی تھی۔ وجہی پہلا شخص تھا جس نے اس زبان کے لیے ’’دکنی‘‘ کا لفظ
استعمال کیا اگرچہ سب رس میں ہی اپنی زبان کو ’’زبان ہندوستان‘ ‘ کہتاہے۔ وجہی کے
علاوہ اس عہد کے دوسرے اہم شاعر غواصی اور ابن نشاطی ہیں غواصی (مثنوی سیف الملوک
و بدیع الجمال، طوطی نامہ، مینا ست ونتی، ابن نشاطی کی مثنوی پھول بن، جو ایک
فارسی مثنوی بساتین کا ترجمہ ہے، شاعرانہ صنعت گری کا کمال ہے۔ جن میںمصنف نے
انتالیس صنعتیں استعمال کی ہیں۔ اس دور کے دوسرے مشہور شاعر اور ادیب حسب ذیل ہیں۔
۱۔ حسن شوقی ۲۔ جنیدی (مثنوی
ماہ پیکر) ۳۔ قطبی (تحفۃ
النصائح) ۴۔ سلطان (دیوان)
۵۔ سید بلاقی
(معراج نامہ) ۶۔ شاہ راجو،
میراں جی خدا نما (تمہیدات عین القضاۃ) ۷۔ طبعی (بہرام و گل اندام) ۸۔ سیوک (مرثیے) ۹۔ خواص (مرثیے) ۱۰۔ غلام علی خان
لطیف (ظفر نامہ محمد حنیف) ۱۱۔ غلام علی (مصنف پدماوت) ۱۲۔ احمد (مصنف لیلیٰ مجنوں) ۱۳۔ افضل قصیدہ
گو۔ ان مصنفین کی زبان قدیم اردو یا دکنی کے مستند نمونے پیش کرتی ہے یہ اپنی زبان
کو ’’دکنی‘‘ کہتے ہیں۔ ابن نشاطی کہتا ہے اسے ہر کسی کے تئیں سمجھا کوتوں بول- دکن
کی بات سوں سرّیاں کو کہہ کھول۔ ایک گمنام شاعر کہتا ہے۔ دکنی میںمجکوں مہارت
ایتی- کہ النصر منکم کہے نصرتی ۔ عادل شاہی بیجا پور کی عادل شاہی سلطنت نے بھی
قطب شاہیوں کی طرح دکنی کی سرپرستی کی۔ اس خاندان کے دو فرماں روا ابراہیم عادل
شاہ ثانی اور علی شاہ ثانی المتخلص بہ شاہی نے دکنی میں شاعری بھی کی۔ ابراہیم
عادل شاہ نے نورس میں برج بھاشا کے علاوہ بعض گیت دکنی میں بھی لکھے تھے اگرچہ ان
گیتوں پر برج بھاشا کا اثر زیادہ غالب ہے تاہم اس کے درباری شاعر عبدل کی مثنوی
’’ابراہیم نامہ‘ شمالی ہند کی دہلوی اور جنوبی ہند کی دکنی کا بڑا اچھا امتزاج پیش
کرتی ہے۔ اس شاعر نے اپنے آپ کو دہلوی ظاہر کرتے ہوئے دکنی میں لکھنے پر فخر
کیاہے۔ علی عادل شاہ شاہی کا دیوان محمد قلی کے دیوان کی طرح تمام اصناف پر محیط
ہے۔ ان بادشاہوں کے علاوہ بیجا پور کے صوفیا نے بھی اردو نثر و نظم کو مالا مال
کیا۔ ان میں شمس العشاق میرا ں جی، ان کے بیٹے برہان الدین جانم اور پوتے شاہ امین
الدین اعلی و نیزان کے خلفا و تلامذہ شامل ہیں۔ شاہ میراں جی شمس العشاق کی تصانیف
لسانی اہمیت کے حامل ہیں مثنوی شہادت الحقیقت ، خوش نامہ، خوش نغز، مغز مرغوب کے
مخطوطات مختلف کتاب خانوں میں موجود ہیں۔ شاہ برہان الدین جانم کی تصانیف میں کلمۃ
الحقائق (نثر) سکھ، سہیلا، مثنوی ارشاد نامہ،مثنوی بشارت الذکر وغیرہ دستیاب ہیں
شاہ امین الدین اعلیٰ نے بھی کئی مثنویاں لکھیں۔ گفتار شاہ امین، محب نامہ اور گنج
مخفی وغیرہ شائع ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ عادل شاہی دور کے جن شعرا و ادبا کے
کارنامے دستیاب ہوئے ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔ مثنوی ابراہیم نامہ از عبدل، مثنوی چندر
بدن و ماہ از مقیمی، مثنوی کشف الوجود مثنوی کشف الانوار از شاہ داول، مثنوی بہرام
و حسن بانو از امین و دولت، مثنوی فتح نامہ از نظام شاہ، مثنوی میزبانی نامہ از
حسن شوقی۔ حسن شوقی کا تعلق دکن کے تینوں درباروں سے رہا۔ مثنوی قصہ بے نظیر اور
گلدستہ از صنعتی ،مثنوی نجات نامہ از ایاغی، مثنوی جنت سنگار از ملک خوشنود، مثنوی
خاور نامہ از رستمی (۲۴ ہزار اشعار پر
مشتمل رزمیہ مثنوی لکھی جو اردو کی سب سے زخیم مثنوی مانی جاتی ہے۔) مثنوی علی
نامہ، گلشن عشق و تاریخ اسکندری از ملک شعرا بیجا پور ملا نصرتی مثنوی یوسف زلیخا
از ہاشمی، دیوان ہاشمی (ریختی) بھی اہم ہیں۔ اس کے علاوہ مثنوی قصص الانبیاء از
قدرتی ، مثنوی اسرار عشق از مو من مثنوی گنج مخفی، شجرۃ الاتقیا، نظم سی حرفی ،
دیوان شاہ معظم از معظم، روصۃ الشہدا از سیوا وغیرہ۔ مغل عہد ۱۶۸۶-۱۷۵۰ء سترہویں صدی
عیسوی میں دکن کی سلطنتوں عادل شاہی، قطب شاہی اور نظام شاہی کا مغل سلطنت میں
انضمام عمل میں آیا۔ اس دور میں مرثیہ گوئی کی کافی ترقی ہوئی۔ ڈاکٹر زور اس کا
سبب یہ بتاتے ہیں کہ اورنگ زیب اور اس کے کارندوں کی سیاست کے ڈر سے دکنی ادیب اور
شاعر اپنے جذبات و خیالات کو صاف ظاہر نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے انہوںنے مرثیے کو
اپنے جذبات کے اظہار کا وسیلہ بنا لیا۔ اس دور میں جن شاعروں اور ادیبوں نے دکنی
میں اپنے کارنامے چھوڑے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ قاضی محمودبحری (من لگن وبنگاب نامہ
اور دیوان) پیرزادہ روحی ہاشم علی ، مرزا، ضعیفی (ہدایات ہندی)، شاہ عنایت (نور
نامہ) ، شاہ عبد الرحمن قادری (مصنف باغ حسینی)، سید محمد خان عشرتی (مصنف دیپک
پتنگ وچت لگن) عشرتی کے فرزند سید احمد خان ہنر بھی صاحب تصنیف تھے۔ ان کی مثنوی
’’نیہہ درپن‘‘ جو پھول بن کے جواب میں لکھی گئی خاصی اہم ہے۔ یہ مثنوی اس زمانے کی
دکنی تہذیب کی عکاس ہے۔ ہنر نے اس زمانے کی سجاوٹ اور زیبائش ، کھانوں، سالنوں،
میٹھوں وغیرہ کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ شاہ حسین ذوقی کی تصانیف بحر العرفان ، وصال
العاشقین، وفات نامہ، ماں باپ نامہ ، غوث نامہ مذہبی رنگ کی ہیں۔ اس دور کا ایک
اور مشہور شاعر وجیہہ الدین وجدی ہے جس کی تصنیف ’’پنچھی باچھا‘‘ ہے۔ یہ منطق
الطیر کا ترجمہ ہے اور باغ جاں فزا اور تحفۂ عاشقاں بھی فارسی صوفیانہ مثنویوں کے
تراجم ہیں۔ لیکن ولی اورنگ آبادی اس پورے دور کے سب سے اہم شاعر ہیں۔ ان کی شاعری
کو بجا طور پر عہد آفریں اور عہد ساز کہا جا سکتاہے۔ اورنگ زیب نے بیجا پور، احمد نگر
اور حیدرآباد کی رونق تو کم کردی وہاں کی محفلیں اجڑ گئیں اور چہل پہل ختم ہوئی
لیکن اس کی وجہ سے اورنگ آباد شعرو ادب، علم وفن اور تہذیب وثقافت کا ایک ایسا
مرکز بن گیا جس کی اہمیت اورنگ زیب کی وفات کے تقریباً ایک صدی بعد تک قائم رہی۔
بیجا پور اور حیدرآباد کے باقی ماندہ شعرا وہاںجمع ہو گئے۔ ولی کے علاوہ اس عہد کے
دکنی شعرا میں سراج اور عزلت دوسرے اہم شاعر ہیں جنہوںنے دکنی بالخصوص قدیم غزل کو
نئی آب و تاب دی۔ لیکن ولی کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ ولی نے دلی کا سفر کیا اور
وہاں کے مشاعروں میں اپنا کلام سنا کر وہاں کے شاعروں کو اردو کی طرف مائل کیا۔ یہ
گویا مفتوح کی فاتح پر فتح تھی۔ کیونکہ شمالی ہند کی فوجوں نے دکن پر سیاسی فتح
حاصل کی تھی۔ لیکن دکن کے اسی شاعر نے پر ادبی فتح حاصل کرلی اور اس زبان کا ڈنکا
دی کہ مشاعروں اور محفلوں میں اس طرح بجوایا کہ ’’دکنی‘‘ وہاں کی محفلوں کی جان بن
گئی اور دلی کے شعرا نے اسے ریختہ کا نام دے کر شاعری کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
چنانچہ شمالی ہند کے شاعروں اور تذکرہ نگاروں نے ولی ہی کو اردو کا پہلا صاحب
دیوان شاعر سمجھ لیا۔ ولی کے علاوہ جن دکنی شعرا نے وی میں شہرت حاصل کی ان میں فقیر
اللہ آزاد اور فراقی مشہور ہیں۔ لیکن دہلی میں’’دکنی‘‘ نے بہت جلد اپنی ہیئت تبدیل
کرلی۔ مرزا مظہر جان جاناں اور حاتم نے ’’اصلاح زبان‘‘ کی تحریک شروع کی جس کے تحت
دکنی کی لفظیات کو تبدیل کیا۔ دکنی سے برج، راجستھانی، پنجابی اور کھڑی کی آمیزش
ختم کرکے اسے عربی اور فارسی کے قریب کر دیا۔ اس کا ثبوت دیوان زادہ حاتم کا فارسی
پیش لفظ ہے جس میں حاتم نے وضاحت کردی کہ ’’ملک کی زبان اور ہندوی کہ اس کو بھاکا
کہتے ہیں موقوف کرکے فقط روز مرہ کہ عام فہم اور خاص پسند تھا اختیارکیا۔ اس کے
بعد لکھتے ہیں کہ: ’’ا س انتخاب میں قدیم (دکنی) طرز کے اشعار میںنے نہیںدرج کئے
اگر کوئی ملیں تو مجھے معاف کیجئے‘‘ اس طرح اٹھارویں صدیکے اوائل تک دکنی ، صوتی
تغیرات کے زیر اثر شمال میں ’’اردوئے معلی ‘ ‘بن گئی۔ لیکن جنوبی ریاستوں جیسے
مدراس ، کرناٹک اور حیدرآباد میں ۱۸۶۷ئ تک اسی زبان میں تصنیف و تالیف کا کام ہوتا رہا۔ ایسٹ
انڈیا کمپنی نے جب مدراس میں اپنے قدم جمائے تو انہوںنے فورٹ سینٹ جارج کالج کے
معلمین سے دکنی میں کتابیں لکھوائیں۔ جس کا نمونہ ’’انوار سہیلی‘‘ مصنفہ ، محمد
ابراہیم ہے۔ لیکن سترہویں صدی کا اواخر اور اٹھارہویں صدی کا اوائل اردو شعر و ادب
کے لئے بڑا ساز گار رہا۔ کیونکہ اسی زمانے میں اردونے مغل دربار میں بار پایا۔
شاہان اودھ نے اس کی سرپرستی کی اور پرتگیزی ، فرانسیسی اور انگریز نو واردین نے
زبان ہندوستان یا ہندوستانی کی ترویج و اشاعت کے لئے سینٹ جارج کالج مدراس ، فورٹ
ولیم کالج کلکتہ اوردلی کالج قائم کئے ۔ اس دوران بھی دکنی کا تسلسل قائم رہا۔ گو
نظم کارواج کم ہو گیا لیکن نثر میں یہ روایت برقرار رہی۔بالآخر سرسید تحریک نے
دکنی کے چلن کو بالکل موقوف کر دیا۔ جامعہ عثمانیہ کے قیام کے بعد تویہ داستان
پاستاں صرف ’بولی‘ کے روپ میں رہ گئی۔ اور صرف و نحو و محاورہ و زبان کے اعتبار سے
معیاری اردو دکنی سے اس حد تک مختلف ہو گئی کہ ’’دکنی‘‘ کو اردو کا بگڑا ہوا روپ
سمجھا جانے لگا۔
Sunday, May 11, 2014
Saturday, May 10, 2014
Subscribe to:
Posts (Atom)





